ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کلڈکا میں فرقہ وارانہ تشدد کی اسمبلی میں گونج،وزیر جنگلات رمناتھ رائے کے استعفیٰ کیلئے بی جے پی کی ضد

کلڈکا میں فرقہ وارانہ تشدد کی اسمبلی میں گونج،وزیر جنگلات رمناتھ رائے کے استعفیٰ کیلئے بی جے پی کی ضد

Tue, 20 Jun 2017 10:33:21    S.O. News Service

بنگلورو،19؍جون(ایس اونیوز) آر ایس ایس لیڈر کلڈکا پربھاکر کے خلاف اقدام قتل کا مقدمہ دائر کرنے وزیر جنگلات رمناتھ رائے کی طر ف سے دکشن کنڑا ضلع کے ایس پی کو دی گئی ہدایت آج ریاستی اسمبلی میں ہنگامہ کا سبب بنی۔اس بات کو لے کر حکمران اور اپوزیشن پارٹیوں کے درمیان زبردست ہنگامہ آرائی ہوئی جس کے سبب کچھ دیر ایوان میں شوروغل مچا رہا۔آج صبح کارروائی شروع ہوتے ہی صفر ساعت کے دوران یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے اپوزشن لیڈر جگدیش شٹر نے کہاکہ آر ایس ایس لیڈر کلڈکا پربھاکر بھٹ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے متعلق وزیر جنگلات نے جو ہدایت جاری کی ہے اس کا ویڈیو منظر عام پر آچکا ہے، اسی لئے پولیس معاملے کی جانچ میں مداخلت کی کوشش کرنے والے رمناتھ رائے کو وزرات پر بنے رہنے کااخلاقی حق نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعلیٰ سدرامیا کہتے ہیں کہ ان کی حکومت انتہائی شفاف ہے، لیکن مداخلت کے ذریعہ انہوں نے یہ ثابت کردیا ہے کہ حکومت شفاف نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ سرکاری افسران کے کام کاج میں مداخلت کرتے ہوئے وزیر نے جو ہدایت دی ہے وہ نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ اس کیلئے انہیں وزارت سے بے دخل کیا جائے۔ آنے والے انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے کلڈکا پربھاکر بھٹ کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کی ہدایت کے ساتھ یہ بھی بیان دیا ہے کہ کلڈکا میں ہوئے فرقہ وارانہ فساد ات در اصل منشیاتی مافیا کی کارستانی ہے، جو کہ غلط ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیر موصوف کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ فسادات کیلئے کلڈکا بھٹ کا اشتعال انگیز بیان ذمہ دار ہے۔ ان دونوں میں سچائی کہاں تک ہے وزیر موصوف کو ان دونوں معاملات کو سامنے لانا چاہئے۔ وزیر موصوف یہ بھی واضح کریں کہ اگر اشتعال انگیز تقریر ہوئی ہے تو وہ کب اور کہاں ہوئی؟ ۔ اس سے اتفاق کرتے ہوئے بی جے پی کے چیف وہپ سنیل کمار نے کہاکہ سماج میں بدامنی پھیلانے کیلئے اس طرح کی بیان بازی کی گئی ہے، ایوان میں اس کی مذمت کی جانی چاہئے۔ بی جے پی کے کے جی بوپیا نے بھی وزیر موصوف کے اس بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ رمناتھ رائے کے خلاف تعذیرات ہند کی دفعہ 153کے تحت مقدمہ درج کرتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے اور وزارت سے انہیں بے دخل کیا جانا چاہئے۔ اس پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کانگریس اراکین اسمبلی ابھے چندر جین اور دیگر نے کہا کہ بی جے پی اس معاملے کو غیر ضروری طور پر طول دینے کی کوشش کررہی ہے۔ اس مرحلے میں مداخلت کرتے ہوئے رمناتھ رائے نے کہا کہ ایس پی کے ساتھ انہوں نے جو بات چیت کی ہے اس کا ویڈیو بغور دیکھا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ضلع میں جلیکرواڈی نامی پنچایت کے نائب صدر کا قتل دن دھاڑے کیا گیاہے۔ اس قتل میں سنگھ پریوار کے لوگوں کے ہاتھ ہونے کا شبہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ اسی معاملے کی جانچ کی انہوں نے ہدایت دی تھی، اس پر بھی بی جے پی اراکین سخت برہم ہوگئے اور حکمران اور حزب اختلاف کے درمیان زبردست شور وغل مچ گیا، اس مرحلے میں مداخلت کرتے ہوئے اسپیکر کے بی کولیواڈ نے کھڑے ہوکر طرفین کو خاموش کرایا اور کہاکہ ایوان کے نظم وضبط کو برقرار رکھا جائے۔ اس مرحلے میں اپوزیشن لیڈر جگدیش شٹر نے کہا کہ وزیر موصوف اگر قاتل کا نام کہنا چاہتے ہیں تو اس پر کوئی حرج نہیں پورے سنگھ پریوار کو بدنام نہ کریں۔ اس مرحلے میں اپنی بات جاری رکھتے ہوئے رمناتھ نے کہاکہ اس قتل میں سنگھ پریوار کے کارکنوں کے ملوث ہونے کی بات پر وہ قائم ہیں۔ اگر یہ بات ثابت ہوجائے کہ اس میں سنگھ پریوار کے کارکن ملوث نہیں ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوشی حاصل کرنے تیار ہیں۔کلڈکا میں بار بار فرقہ وارانہ ٹکراؤ ہورہاہے، اور اس کیلئے متھن نامی ایک شخص راست طور پر ذمہ دار ہے، جس کی چند عناصر حفاظت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ، اگر بحیثیت وزیر یا کوئی بھی اسے بچانے کی کوشش کرے گا تو اس سے سماج میں انتشار پیدا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ اشتعال انگیز تقریر کرنے والے کلڈکا پربھاکر اور ایسے دیگر افراد کے خلاف کارروائی کرنے کی انہوں نے سخت ہدایت دی ہے۔ اسی کا ویڈیو بناکر اسے غلط رنگ دیا جارہا ہے۔ 


Share: